شہیدِ کاروانِ جمہوریت

خودکشی اور مردانگی

میں نے کمرے میں پڑی نیند کی گولیاں اور بلیڈ کی طرف دیکھ کر سوچا کہ گولیاں کھا کر زندگی کا خاتمہ کر لوں یا اپنی نبض کاٹ لوں۔

مگر میں عورتوں کی طرح رومانوی طریقے سے مرنا نہیں چاہتا۔ میں مرد ہوں۔ میں ٹرین کے نیچے آ سکتا ہوں یا نہر میں کود کر جان بھی دے سکتا ہوں مگر ٹرین کی زد میں آ کر جسم اتنے ٹکڑوں میں تقسیم ہو جاتا ہے کہ اکھٹا کرنا بہت مشکل ہے۔ اور اتنے بڑے غیر شہر میں کوئی میری پھولی ہوئی تعفن زدہ لاش کیسے پہچانے گا۔ اور اپنے شہر کی نہر میں تو گھٹنے بھی گیلے نہیں ہوتے۔

پھر کیا کیا جائے؟

میں بھی کس قدر کمزور مرد ہوں کہ بہادری کا ایک فیصلہ نہیں لے سکتا۔ خود کشی کا ارادہ ترک کیا اورآفس کے لیے تیار ہونے لگا کہ خدا کی جنت کی بجائے ایک بار پھر دنیا کی دوزخ کا سامنا کیا جائے۔

قندیل

گلے میں اس قدر تکلیف کے احساس لفظوں کی صورت میں نہ ڈھل سکیں۔ میں سر جھکائے، لڑکھڑاتے قدموں سے دو سایوں کی پیروی کرتے جا رہی ہوں۔ ایک طرف روشنی اور ایک طرف گھپ اندھیرا، ایک طرف قیامت کا شور اور ایک طرف حسین ٹھنڈک کا احساس۔ نامعلوم جگہ اور چند سائے۔ ان کی پیروی کرتی، میں قندیل۔ ہاں، وہ قندیل جو وقت سے پہلے بجھ دی گئی۔

اچانک ایک آواز گونجی۔ اٹھو، ایدھی، ٹریسا۔ اٹھتے کیوں نہیں؟ تم تو یتیموں بےآسرا کی مدد سے نہیں گھبرائے۔ اب کیوں؟

مولا یہ تو یتیم و مسکیں نہیں۔ جس کو اپنے دربدر کی ٹھوکریں کھانے کے لیے چھوڑ دیں، زندگی کا حق چھین لیں، وہ ہمارے لیے یتیم و مسکین ہے۔

خود مختار عورت اور انا

میں ہمیشہ سے چاہتا تھا میری بیوی خودمختار ہو۔ ہم دونوں کام کریں اور گھر چلا سکیں اور کسی مشکل میں بچوں کو پال سکیں لیکن وہ گھر یلو خاتون رہنا چاہتی تھی۔ شادی سے پہلے ہم خوب باتیں کیا کرتے تھے۔ اس کی سب سے بہترین بات تھی کہ وہ ہمیشہ میرے ٹیکسٹ کا جواب فوراً سے دینے کی عادی تھی۔ اسی بات پہ میں اس پہ جان چھڑکتا تھا کہ میرے دو ریلیشن بروقت جواب نہ آنے کی وجہ سے ٹوٹ چکے تھے۔ یہ نفسیاتی مسئلہ تھا یہ انا حائل تھی مجھے اس کا ادراک نہیں۔ اور اب جب میں آفس سے فارغ اوقات میں اسے میسج یا کال کروں تو وہ بروقت جواب نہیں دیتی تو مجھے وہ دن یاد آتے ہیں جب وہ کہتی تھی مجھے خود مختار نہیں ہونا۔ اب میں سوچتا ہوں وہ کسی اور کے ساتھ مصروف ہے یا واقعی خود مختار ہو چکی ہے۔

آزادی کا سفر

برصغیر دو حصوں میں بٹ چکا۔ ایک مسلمانوں کا، ایک ہندوؤں کا۔ ترنگے والے اپنے جھنڈے میں سبز رنگ رکھنا نہیں چاہتے اور سبز ہلالی پرچم والے سفید رنگ سے نالاں ہیں۔ سینکڑوں سال اکھٹے رہنے کے بعد ایک نہ بن سکے اور ستر سال کے عرصے میں ایک دوسرے سے جدا بھی نہ ہو سکے۔ اب بھی جو سب کچھ لٹا کر آئے تھے وہ یادوں کے بھنور سے نکلتے نہیں اور جو اس دیس کو چھوڑ چلے وہ اس کے سِحر میں مبتلا ہیں۔

اندھیری جنت

میں نے سوال کیا بابا آپ جنت میں جانا چاہیں گے کہ دوزخ میں؟ بابا جی ہمیشہ کی طرح ہنستے ہوئے مخاطب ہوئے اور جواب دیا، بیٹا میں ایسی اندھیری جنت میں جا کے کیا کروں گا جو مذہب کے ٹھیکےداروں اسامہ، ملا عمر، محمد بن قاسم سے بھری ہو؟ میرے لیے تو وہ جہنم باعث اشتیاق ہے، جو روتھ فاؤ، مدر ٹریسا، ایدھی اور بل گیٹس سی چمک رہی ہو۔

شہید کاروانِ جمہوریت

میں نےلاش اٹھانا چاہی مگر بہت بھاری تھی۔ کیسے نہ ہوتی؟ تمغہ جو اتنا بڑا تھا۔ بارہ سال کا بچہ اور کاروانِ جمہوریت کا پہلا شہید۔ یہ تو مجھ سے بھی برداشت نہ ہوا۔ میں بھی دل پکڑے بیٹھا ہوں۔ خوشی میں دل کی دھڑکن بڑھ جاتی ہے نا۔ اور ماں کا تو نہ ہی پوچھو۔ خوشی سے پاگل ہو چکی۔ یہ بڑے لوگ بھی نا۔۔۔ کس طرح ہم چھوٹے لوگوں پہ عنایت کی حد کر دیتے ہیں۔ بھلا جن سے اپنا بیٹا نہ سنبھل سکا وہ اتنے بڑے تمغے کیسے سنبھالیں گے؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *