سماج کی نو گرہیں

جنت اور بے روزگار:

اس نے رات کے اندھیرے میں مجھ پہ آواز کستے ہوئے کہا، صاحب کب تک جلتے الاؤ کو یونہی پھونکوں سے بجھاتے رہو گے۔ آؤ تم کو دکھلاؤں کہ کچھ جنتیں زمین پربھی ہیں۔ جہاں جانا صرف کسی کسی کا مقدر ہوتا ہے۔ میں اس کو نظرانداز کرتا اپنے راستے پہ گامزن رہا۔ اسے کیا خبر کہ جسے وہ میری شرافت سمجھ کے خود کو کوستی رہی ہوگی، اس جنت کی انٹری تو درکنار اس بے روزگار کے پاس گھر جانے کے لئے رکشہ کا کرایہ نہ تھا۔

وعدہ اور بدچلن:

عروسی جوڑے میں ملبوس بیٹھی اپنی دلہن کے ساتھ جب عہد و پیماں، اور کچھ نہ چھپانے کی قسمیں جاری تھیں تو اس دوران اس نے بتایا کہ یونیورسٹی میں میرا ایک افیئر مشہور ہوا تھا مگر وہ حقیقت پہ مبنی نہ تھا۔ میں دم بخود ہو گیا اور سوچنے لگا کہ کس قدر بدچلن عورت ہے جب کہ میرا تین لڑکیوں سے ان کی شادی کے بعد بھی گہرا تعلق رہا، کسی نے اپنے خاوند سے اس کا ذکر نہ کیا اور یہ عورت اپنا ایک افیئر مجھ سے نہ چھپا سکی۔

ادھوری محبت اورافسانہ:

میں نے اس کی بے بسی سے بھرپور آنکھوں میں جھانکتے ہوئے اسے بے رخی سے جواب نہ میں دیا۔ میں تمہارے ساتھ نہیں چل سکتا۔ تمہیں بے وفا ہونا ہوگا۔ میرے افسانے میں محبوبہ بے وفا ہے۔ میں تمہاری وفا کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔ میں ادھوری محبت کر سکتا ہوں مگر اپنا افسانہ نہیں۔

بازار اور قیمت:

تم مجھے نہیں خرید سکتیں، کسی بھی صورت۔ کچھ چیزیں نہیں بک سکتیں۔ اس نے میری طرف دیکھا اوراطمینان سے جواب دیا۔ میں بھی اسی بات پہ یقین رکھتی تھی مگر جب میں نے یوسف سا حسین پیغمبر مصر کے بازار میں بکتے دیکھا تو مجھے یقین ہو گیا کہ اس دنیا میں کچھ بھی خریدا یا بیچا جا سکتا ہے۔ ہاں یہ تو عزیز مصر جتنی دولت ہو یا برادرانِ یوسف سا آہنی کلیجہ۔

ضرب اور تفریق:

اپنے ہدف پہ پہنچ کے اس نے بارود سے بھری جیکٹ اتارنی چاہی مگرناکام رہا۔ اور بے بسی کی تصویر بنے سوچتا رہا کہ میرے مذہب کے ملا اورمعاشرے کے استادوں نے مجھے تفریق اور تقسیم کا قاعدہ ہی کیوں پڑھایا۔ وہ مجھے محبتوں کوجمع اور ضرب کرنے کا فن بھی سکھا سکتے تھے۔ نقصان مذہب کا ہوا، میرا یا معاشرے کا؟

چھوٹے شہر یا سوچ:

تم چھوٹے شہر کے لوگ بہت تنگ نظر اور تنگ دل ہو۔ تمہارا یا میرا یہ جوڑ۔ ہمارا ساتھ بہت مشکل ہے۔ یہ کہتے ہوئے اس نے تین سال پرانے تعلق کو ختم کر دیا۔ لیکن جب میں نے نظراٹھا کے دیکھا تو آسمان کی وسعتوں کو اپنے سامنے پایا اور نظر جھکا کے دل کو دیکھا تو کائنات کی وسعتوں میں نہ سما سکنے والے اپنے خدا کو موجود پایا۔ میں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ شہر بڑے یا چھوٹے نہیں۔ لوگوں کی سوچ بڑی یا چھوٹی ہوتی ہے۔

سچ اور جھوٹ:

کلاس کو پڑھاتے ہوئے جب میں سچ کی اہمیت پہ زوردے رہا تھا تو ایک نوجوان طالب علم کھڑا ہوا اور مجھ سے سوال کرنے لگا۔ سر جب آپ، میں اور یہ سماج سچ کہہ نہیں سکتے، سچ سننا نہیں چاہتے اور سچ برداشت کرنے کی ہمت نہیں رکھتے تو ہم اس قدر کڑوی کسیلی چیز کو سچ کا نام کیوں دے رہے ہیں؟ کیوں نہ سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ مان کر اپنی زندگی کو رنگین اور خوش نما بنا دیں اور لفظوں کی عزت بھی برقرار رہ جائے؟

انکل اور تحفہ:

بیٹی باہر آؤ، دیکھو کون آیا ہے؟ تمہارے پسندیدہ انکل جن کے ساتھ تم گھنٹوں کھیلتی تھیں۔ اماں نے خوشی سے چہچہاتے ہوئے مجھے بلایا۔ اس بار انکل میرے لئے سوٹ کا تحفہ لائے تھے۔ جو بچپن میں مجھے تنہا کمرے میں چاکلیٹ کے تحفے دیا کرتے تھے۔ شاید اتنے سال بعد میں بھی بڑی ہو چکی تھی۔ انکل کے تحفے اوران کی ضروریات بھی۔

رمضان اور روزے:

مسلسل رمضان میں ایک ہی ہوٹل پہ سحری اور افطاری کے بعد آج خان بابا نے میرے کندھے پہ ہاتھ رکھا اور اپنے پاس بیٹھے دوستوں کی بتانے لگے۔ یہ نوجوان پہلے رمضان سے اب تک تمام روزے رکھ رہا ہے۔ ورنہ آج کے دور کے نوجوانوں میں اتنی مستقل مزاجی کہاں ہے؟ اور میں دل میں سوچنے لگا کیا بتاؤں کہ میں ہوسٹل میں رہتا ہوں، نہ بھی چاہوں تودن بھر بھوکا پیاسا رہنا پڑتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *