سیکولرازم اسلام کو ملّا سے نجات دلانے کے لیے آگے بڑھے

پاکستان کو دور جہالت میں دھکیل دینے کا عزم رکھنے والی عوامی اکثریت کے لئے تاریخ کا ایک اہم سبق:

تحریک پاکستان کا آغاز اس وقت کے "اپر کلاس" مسلمان جو ایک سیکولر وضع قطع رکھتے تھے، نے کیا۔ ان لوگوں میں سے چند لوگ محمد علی جناح (شیعہ کافر)، لیاقت علی خان، سر آغا خان (اسماعیلی کافر)، سر ظفراللہ خان (احمدی کافر) وغیرہ تھے۔ آل انڈیا مسلم لیگ کی بنیاد بھی ایسی ہی سوچ کے لوگوں نے نواب آف ڈھاکہ کے گھر پر رکھی۔

اس دور میں بھی مُلّا پاکستان کے خلاف تھے کیونکہ ان کے نزدیک پاکستانیت کا تصور اسلام کے خلاف تھا۔ وہ تو شریعت کے زور پر پورے ہندوستان پر قبضہ کرنا چاہتے تھے لیکن ان کے اندر اتنی صلاحیت نہ کبھی تھی نہ ہو گی۔ لہٰذا سیکولر طبقے نے مُلا کو "ignore" کرتے ہوئے مسلمانوں کو سیاسی اور قومی شناخت دینے کے لئے پاکستان کو تخلیق دیا اور کہا کہ اس ملک میں ہر مذہب کا انسان آزادی کے ساتھ رہ سکتا ہے۔

جیسے ہی پاکستان بنا، ان ملاؤں کی گندی نظر اس ملک کو "hijack" کرنے پہ لگ گئی، اور انہوں نے ایک بار پھر شریعت کا راگ الاپنا شروع کر دیا (پورا ہندستان نہیں تو پاکستان پہ تو قبضہ کیا جائے)۔ اس وقت تک جناح اور لیاقت علی خان کی وفات کی وجہ سے سیکولر پاکستانیت خطرے میں پڑ چکی تھی۔ طاقت کے اس خلا کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان کی فوج نے بھی اپنی قوت بڑھانے کے لیے سکندر مرزا (میر جعفر کا پوتا) کے ذریعے 1956 میں پاکستان کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کا نام دیا۔

اس دن سے فوج، اسٹیبلشمنٹ اور مُلا کا "unholy" اتحاد شروع ہو گیا۔ اس اتحاد نے ایک ایسی خطرناک نسل کو جنم دیا جو آنکھیں بند کر کے فوج کے تمام اعمال کو اسلامی سمجھتی ہے اور اسلام کے نام پر ہونے والی ہر قسم کی انتہا پسندی کو دل و جان سے "support" کرتی ہے۔ البتہ خود کش حملوں کی منافقانہ طریقے سے خوب مذمت بھی کرتی ہے۔ اسی نسل کے بیانیے کو استعمال کر کے کوئی بھی قوّت ان کو استمال کر جاتی ہے، مذہب کے نام پر ان کے جذبات سے کھیل کر انتشار پھیلا دیتی ہے، اور جہالت کے بازار کو گرم رکھتی ہے۔ اور ہاں یہ نسل احمدیوں کو کافر کہنے کا موقع ذائع نہیں ہونے دیتی کیونکہ اس طرح ان کا مسلسل خطرے میں پڑا ہوا ایمان تازہ ہو جاتا ہے۔

اس نسل سے درخوست: اگر نفرت کی بنیاد پر پاکستان کو ایک جہنم بنانے کا عزم رکھتے ہو تو خدارا منافقت سے جناح کا نام لینا چھوڑ دو کیونکہ جناح کا پاکستان اُن کی وفات کے ساتھ مر چکا تھا۔ اب تو بس ایک طوفان بدتمیزی ہے۔ غالباً وہ وقت دوبارہ آ چکا ہے کہ جناح اور ان کے ساتھیوں کی طرح اس خطے کے سیکولر مسلمانوں کو ایک بار پھر تمام مسلمانوں کی مدد کو آنا پڑے گا اور دور جہالت کے ملاؤں اور ان کی خطرناک نسل سے چھٹکارا دلانا ہوگا۔

گواروں کے لیے نوٹ: سیکولر مسلمان کا مطلب غیر مسلم یا اسلام دشمن نہیں بلکہ یہ وہ سچا مومن ہے جو نہ صرف مسلمانوں بلکہ انسانیت کا حقیقی محافظ ہوتا ہے۔ الله پاکستان کا اور اس میں بسنے والے تمام انسانوں کا حامی و ناصر ہو۔

پاکستان زندہ باد!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *