میں ، منٹو اور منٹو

Posted by

فلموں کا بے حد شوقین ہوں ۔
ادھر فلم تیاری کے مراحل میں ہوتی ہے ادھر میں
فلم کا پہلا شو دیکھنا میرا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ اور مصروفیت کی بنا پر اگر فلم دیکھنے سے رہ جائے توایسا لگتا ہے جیسے جان نکل رہی ہو۔فلم دیکھنے کا مزہ فلم ریلیز ہونے کے پہلے ہفتے میں ہی آتا ہے بعد میں سینما ویران اور فلم بے جان لگتی ہے ۔
اس ہفتے فلم دیکھنے کا جی چاہا ، اپنے جیسا ایک ویلہ مصروف ڈھونڈا اور سینما کا رخ کیا۔ کچھ انگریزی اور کچھ ملک دشمن کی فلمیں نمائیش کے لئے دستیاب تھیں ۔ سوچا ملک دشمن سے بدلا لینے کا اس سے اچھا موقع نہیں ملے گا آج ہی اس کی فلم دیکھ کر اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا، سویہی سوچ کر ٹکٹ والی لائن میں لگ گیا، میرے سے آگے چند لوگ تھے جو ایک پاکستانی فلم کا نام لے رہے تھے مجھے لگا کہ آج پھر کوئی نئی پاکستانی فلم آئی ہے مگر پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہ ایک ہفتہ پرانی فلم منٹو ہے
باری آنے پر ٹکٹ والے بابوسے معلوم ہوا کہ فلم کو آئے دس دن ہو چکے ہیں اور آج بھی تقریباََ ہاؤس فل ہے

ملک دشمنی کا ارادہ ترک کیااور منٹو کے لئے دو ٹکٹیں لے لیں

1538645_679197885493434_1731312571_nہال میں جاتے جاتے سوچ رہا تھا کہ منٹو کیا ہے؟ میں نے تو اس کے افسانے بھی نہیں پڑھے مجھے کیا سمجھ آئے گی۔
منٹو تو گندی کہانیاں لکھتا ہے ؟
منٹو تو شراب پیتا تھا؟
منٹو کا تو طوائیفوں کے پاس آنا جانا تھا؟
میں آج کیا دیکھنے لگا ہوں؟
ایک مسلمان شرابی یا مسلمان مصنف جو گندی کہانیاں لکھتا ہے یا وہ مسلمان جس کا طوائیفوں کے پاس آنا جانا تھا۔
ہال میں داخل ہوا گنتی کی چار سیٹیں صرف چار سیٹیں خالی تھیں
سب منٹو دیکھنے آئے ہوئے تھے، فلم شروع ہوئی سب موئدب ہو کر دیکھنا شروع ہوگئے، منٹو کے افسانے ڈرامائی انداز میں چلے سب خاموشی سے دیکھتے رہے
کسی بھی افسانے کا سین شروع ہوتا تو جنسی رومان جاگ اٹھتے اور سین ختم ہوتا تو ضمیر جاگ اٹھا ہوتا
اندازہ ہو گیا کہ منٹو کے بارے میں سب نے پڑھا ہے سنا ہے مگر منٹو کو کسی کسی نے پڑھا ہے
فلم شروع ہوئی تو لگا جیسے ایک عمارت تعمیر ہو رہی تھی، اور سب اپنا اپنا کردار بھرپور انداز سے نبھا رہے تھے
ثانیہ سعید، اور صبا قمر سمیت باقی فنکاروں نے اپنے کردار خوب نبھائے ، ان کرداروں کی بدولت ہی جنہوں نے منٹو کو نہیں پڑھا وہ بھی اب پڑھیں گے ،
فلم کے ہر حصہ میں اک نئی جان ڈالی منٹو نے
چاہے منٹو کی شراب ہو چاہے منٹو کا پاگل خانے جانا
مجھے نہیں یاد رہا کہ میں کیا دیکھتا رہا کیونکہ فلم دیکھنے کے دوران میں منٹو کا حصہ بن چکا تھا میں انہی کرداروں میں کھو چکا تھا مجھ نہیں یا د کہ فلم میں کیا ڈائیلاگ بولے گئے کتنے گانے آئے ۔
فلم چلتے چلتے رک گئی سکرین سیاہ ہو گئی اچانک ہال کی بتیاں جل گئی
ہال میں بیٹھا ہر شخص ساکت رہا جیسے کسی نے جان نکال لی ہو، کچھ لمحوں کے لئے ایسا لگا کہ فلم نہیں ہم ختم ہو چکے ہیں
کوئی آہٹ نہیں ، سناٹا ، خاموشی ، سکوت
اچانک سب اپنی سیٹوں پر کھڑے ہوئے اور تالیوں سے داد دی ، منٹو کو
باہر نکلتے ہوئے ایک پوسٹر پر نظر پڑی جس پر فلم میں شامل اداکاروں کے نام لکھے ہوئے تھے، سب سے اوپر سرمد کھوسٹ کا نام لکھا ہوا تھا۔
میں ہنسا، مجھ ہنستا دیکھ کر میرا دوست بولا بڑی ہنسی نکل رہی ہے؟
یار یہ ڈائیریکٹر لوگ بھی بڑی چیز ہیں فلم میں اداکاری بھی نہیں کی اور اداکاروں کی فہرست میں اپنا نام بھی اول لکھوایا
کیوں تو نے سرمد کھوسٹ کو نہیں دیکھا فلم میں ؟
نہیں !
یاراسی کا تو مرکزی کردار تھا بطور منٹو
منٹو؟؟؟ مگر مرکزی کردار میں تو خود منٹو تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *