کلبھوشن یادیو ۔ بس کردیں، اور کتنا جھوٹ بولیں گے قوم سے؟

Posted by

اب ذرا وہ کڑوی بات کر ہی لی جائے۔ سوال یہ ہے کہ کلبھوشن پر آپ کیا سوچ رہے تھے، کیا فیصلہ آئے گا؟ کس پر تکیہ کیے بیٹھے تھے؟

پہلی بات تو یہ ہے کہ ذرا کوئی مجھے یہ سمجھا دے کہ کلبھوشن یادیو کونسلر تک رسائی دینے میں کیا قباحت تھی؟ یہ ایک بنیادی سا قانونی نکتہ تھا۔ مگر آپ نے اسے کونسلر تک رسائی نہیں دی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ساری دنیا میں آپ کے اپنے ملک میں چلایا گیا مقدمہ ایک farce کے طور پر پیش کیا گیا۔

اب آپ عالمی عدالت سے یہ چاہتے ہیں کہ وہ اس نکتے کو نظرانداز کرتے ہوئے فیصلہ آپ کے farce کے حق میں دے دے۔ مگر ثاہر ہے کہ دنیا ہر چیز کو آپ کی عینک سے نہیں دیکھتی۔ عدالت نے وہی فیصلہ دیا جو قانون سے میرے جیسے نابلد بھی سمجھنے میں ایک لمحہ نہیں لگاتے کہ کوئی بھی شخص، خواہ اس کا جرم کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، حق رکھتا ہے کہ اس کو مکمل آزادی سے اس کا مقدمہ لڑنے کا حق دیا جائے۔ یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے جو آپ کے پلّے نہ پڑ رہی ہو۔

پھر آپ کا کہنا ہے کہ عالمی عدالت نے اس کا فیصلہ اتنی عجلت میں کیوں سنا دیا؟ ارے بھائی، آپ یہ گارنٹی تک دینے کو تیار نہیں تھے کہ ہم کلبھوشن کی پھانسی مقدمے کی سماعت تک ملتوی کر دیں گے تو اس پر بھارت نے عالمی عدالت سے یہ استدعا کی کہ اس مقدمے کو فی الفور سن کر اس پر جلد از جلد فیصلہ سنایا جائے کیونکہ اس میں ایک شخص کی جان جانے کا احتمال ہے۔ آپ کیا سمجھ رہے تھے کہ عالمی عدالت آپ کو اسے پھاہے لگا دینے کی غیر مشروط اجازت دے دے گی؟ عالمی عدالت آپ کی منشاء و مرضی پر فیصلے نہیں سنا سکتی، سرکار۔

بقول یاسر لطیف ہمدانی کے، اس سے پاکستان کو یہ فائدہ ضرور ہوگا کہ ہم آئندہ اپنے معاملات عالمی عدالت لے جا سکیں گے کیوںکہ اس پر عدالت اسے ایک کثیر الجہتی مسئلہ تسلیم کر چکی ہے، اور خود بھارت نے اس پر عدالت سے یہ استدعا کی ہے۔ مگر یہ سب بعد کی باتیں ہیں۔ فی الحال تو حقیقت یہی ہے کہ قوم کو ایک مرتبہ پھر عالمی سطح پر بھارت سے شکست کی ذلت برداشت کرنی پڑ رہی ہے۔ ہم تو دل ہی دل میں خوش ہو رہے تھے کہ 4 جون میں ابھی قریب ڈھائی ہفتے باقی ہیں۔

اب ذرا آتے ہیں پیپلز پارٹی اور اس کی شیری رحمان صاحبہ کے شرمناک بیان کی چرف کہ حکومت نے ایک 'نا تجربہ کار' وکیل کیوں چنا۔ محترمہ کی خدمت میں عرض ہے کہ خاور قریشی کو ایک تو حکومت نے نہیں فوج نے چنا، بقول خود آرمی چیف صاحب کے۔ تو لہٰذا پہلے تو انگریزی زبان کے مقولے کے مصداق  you're barking the wrong tree۔ دوسری بات یہ ہے کہ خاور قریشی کوئی اعتزاز احسن نہیں ہے کہ جنہوں نے زندگی میں جس کا مقدمہ لڑا اس کا بیڑا غرق ہی ہوا ہو۔ خاور قریشی کا تجربہ 25 سال کا ہے اور عالمی عدالت میں متعدد مقدمات لڑ چکے ہیں۔ آپ ان پر تنقید اس لیے نہیں کر رہیں کہ آپ کو ان حقائق کا علم نہیں ہے۔ بلکہ وجہ یہ ہے کہ پیپلز پارٹی ایک مرتبہ پھر اپنی پرانی روش کے مطابق انتخابات سے ایک سال قبل بوٹ پالش کرنا شروع ہو چکی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس مقدمے کو عالمی عدالت میں جتنے بہتر انداز میں پیش کیا جا سکتا تھا، کیا گیا۔ اب باقی آپ جو کچھ کہہ رہی ہیں، وہ beating about the bush سے زیادہ کچھ نہیں۔

اب شیخ صاحب بھی فرما رہے ہیں کہ جندال کے آنے کا مقصد یہ تھا کہ پاکستان عالمی عدالت میں کوئی بڑا وکیل نہ بھیجے۔ دوسری طرف آرمی چیف کہہ رہے ہیں کہ عالمی عدالت میں وکیل فوج نے بھجوایا۔ خیر شیخ صاحب سے کیا شکوہ؟ انہوں نے تو زندگی میں کبھی کسی سے سچ نہیں بولا۔

میری ایک مرتبہ پھر استدعا ہے کہ حکومت اور میڈیا سمیت اگر سب ادارے جنرل قمر جاوید باجوہ کی طرح قوم سے سچ بولنا شروع کر دیں تو اس طرح عالمی سطح پر بار بار سبکی نہ ہو۔ یا کم از کم عوام کو پہلے سے معلوم تو ہو کہ اس کے ساتھ ہو کیا رہا ہے۔ کارگل کے وقت بھی آپ لوگوں کو فتح و نصرت کے ڈونگروں میں کہیں الجھا کر خود اعلیٰ سطحی میٹنگز میں یہ کہہ رہے تھے کہ اس حرکت کا عالمی سطح پر دفاع نہیں کیا جا سکتا۔ اگر تب قوم سے سچ بولنے کی ہمت کر لیتے تو شاید آج تک میاں صاحب کو یہ سیاسی نابالغ بچے کارگل کی ہزیمت کا ذمہ دار نہ ٹھہرا رہے ہوتے۔

میڈیا میں اس وقت بھی یہ بحث نہیں ہے کہ کیس کی بنیادی کمزوریاں تھیں کیا کیا۔ اب بھی یہ لوگ بحث اس بات پر کر رہے ہیں کہ مقدمہ درست طریقے سے پیش کیوں نہیں کیا گیا۔ ہم جھوٹ سن سن کر تنگ آ چکے ہیں۔ مگر آپ بول بول کر نہیں تنگ آ رہے۔

One comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *