راحیل شریف کی سعودی فوجی اتحاد کی سربراہی اور ہماری معاشی مشکلات

Posted by

مسلم لیگ نواز کی حکومت نے 'دہشتگردی' کے خلاف بننے والے سعودی فوجی اتحاد کی سربراہی کے لیے جنرل (ر) راحیل شریف کو غیر رسمی طور پر اجازت دے دی ہے۔ نیٹو کی طرز پر بننے والے اس اتحاد کا ظاہری طور پر مقصد دہشتگردی کے خلاف لڑنا ہے۔ باقی 29 ممالک ہی کی طرح پاکستانی حکومت بھی راحیل شریف کو اس اتحاد کی سربراہی کی اجازت نہ دینے کی متحمل نہیں ہو سکتی تھی، باوجود اس کے کہ حکومت کو اچھی طرح علم ہے کہ یہ ادارہ ایک اور اسلامی ملک، ایران، جو کہ ان 29 ممالک میں شامل نہیں ہے، کے قومی مفادات کے خلاف استعمال ہو سکتا ہے۔

کیا پاکستان اس پیشکش کو ٹھکرانے کا متحمل ہو سکتا تھا؟ حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو یہ ممکن نہیں تھا۔ اور ایران نے بھی امام خمینی کے دور میں عربوں کو خلیج اور امریکہ کو سمندروں میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کرنے کے بعد سے گذشتہ کئی سالوں میں اس حقیقت کو سمجھ لیا ہے۔ مغرب بھی معاشی مجبوریوں کو سمجھتا ہے۔ پاکستان کا خلیجی ممالک میں رہنے والے تارکینِ وطن کی جانب سے بھیجے جانے والے زرِ مبادلہ پر انحصار بہت زیادہ ہے۔ جبکہ ایران میں پاکستانی مزدوروں کی کوئی کھپت نہیں۔

2015-16 میں سمندر پار پاکستانیوں نے 20 ارب ڈالر پاکستان بھیجے۔ ان میں سے 10 ارب ڈالر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانیوں نے بھیجے تھے جبکہ صرف 5 ارب ڈالر امریکہ اور برطانیہ میں رہنے والوں نے۔ لیکن سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات یمن کے خلاف ایک جنگ لڑ رہے ہیں جس میں اپنی افواج بھیجنے سے پاکستانی پارلیمنٹ نے 2016 میں انکار کر دیا تھا۔ اس سال غیر ملکی محصولات میں 14 فیصد کی نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔ کیا اس میں ہمارے لیے کوئی پیغام ہے؟ بھارت میں 2017 کی بریکنگ نیوز یہ ہے کہ سعودی فرمانروا شاہ سلمان آنے والے چند ماہ میں شاید بھارت کا دورہ کریں گے۔

ادائیگیوں کے ڈانواں ڈول توازن کو مدِ نظر رکھتے ہوئے یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ پاکستان اپنے مایوس عرب دوستوں کی جانب سے آنے والے ان واضح اشاروں کو نظرانداز نہیں کر سکتا۔ ٹرمپ حکومت کی بھارت کے ساتھ بڑھتی ہوئی قربت اور چین کے ساتھ بین الاقوامی سطح پر بڑھتی ہوئی مخاصمت کے پیشِ نظر اس کے پاکستان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے آنے والے دنوں میں کچھ زیادہ امید نہیں رکھی جا سکتی۔ ایسے میں جنرل (ر) راحیل شریف کی اس اتحاد کے سربراہ کی حیثیت سے تقرری سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانیوں کے بڑے پیمانے پر اخراج کے خلاف ایک ضمانت ثابت ہو سکتی ہے۔

خالد احمد کی فیس بک پر ایک پوسٹ سے اردو میں ترجمہ کیا گیا۔

One comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *