مسلمان ایک یہودی تہوار کیوں مناتے ہیں؟

ali.zaidi@dunyatv.tv'Posted by

اس جمعہ کے روز دنیا بھر کے مسلمان روزہ رکھیں گے۔ یہ عاشورہ کا دن ہوگا، اسلامی سال کے پہلے مہینے کا دسواں دن۔ حدیث کے مطابق مدینہ ہجرت کے بعد محرّم کا مہینہ آیا تو کچھ ساتھیوں کے ذریعے رسولِ اکرمﷺ کو پتہ چلا کہ یہودی اس دن روزہ رکھتے ہیں۔ پوچھنے پرانہوں نے بتایا کہ وہ یہ روزہ عبرانیوں کو فرعون کے ظلم سے نجات ملنے کی خوشی منانے کے لیے رکھتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ کیا کہ یہودیوں سے اظہارِ یکجہتی کے طور پر مسلمان بھی اس دن روزہ رکھیں گے۔

اگر آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ مسلمان ایک ہہودی تہوار کیوں منا رہے تھے تو اس کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ محمد ﷺ اور ابتدائی مسلمانوں نے کبھی خود کو ایک نیا مذہب خیال نہیں کیا تھا۔ وہ خود کو صرف پرانے الوہی مذاہب کی ایک نئی شروعات اور عقیدہ توحید کی اپنی اصل شکل میں بحالی خیال کرتے تھے۔ محمّدؐ نے خود کو ہمیشہ اسی لڑی کا آخری نبی کہا جس کی شروعات آدم علیہ السّلام سے ہوئی تھی اور جس میں ابراہیمؑ بھی تھے اور نوحؑ بھی۔ موسیٰؑ بھی اور عیسیٰؑ بھی۔ ان پیغمبروں کا نام قرآن میں رسول اللہ کے نام سے بھی زیادہ مرتبہ لیا گیا ہے۔

لیکن عاشورہ کی اسلام میں اہمیت کی ایک اور بہت سنگین وجہ بھی ہے۔ وہ وجہ یہ ہے کہ اسی روز نواسہ رسولؐ کو ایک بد کردار خلیفہ کی فوج نے اپنے بادشاہ کے خلاف ہونے والی بغاوت کو کچلنے کے لئے شہید کر دیا تھا۔

سنّی مسلمانوں کے لیے یہ دن ایک عظیم سانحہ تھا۔ لیکن شیعہ مسلمانوں کے نزدیک یہ اس سے بھی بد تر تھا۔ ان کے مطابق اس روز نبیؐ کے خاندان یعنی اہلِ بیت کو مسلم اُمّہ کی قیادت سے روک دیا گیا گیا، اور پہلی مرتبہ تلوار اور خوں ریزی کے ذریعے۔ لہٰذا یہ جمعہ مسلمانوں کے لیے بیک وقت یومِ نجات بھی ہے اور یومِ سوگ بھی؛ آزادی کا دن بھی ہے اور ظلم و جبر کا بھی۔

  ء 632 عیسوی میں آپؐ کے اس دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد صحابہؓ کو امّت کو اکٹھّا رکھنے میں بہت سی دشواریوں کا سامنا کر نا پڑا۔ اہلِ تشیع کا خیال تھا کہ خلافت پر اب آپؐ کے داماد اور چچا زاد حضرت علیؓ کا حق تھا جب کہ ایک بڑی تعداد کا خیال تھا کہ خلافت اب آپؐ کے سسر حضرت ابوبکرؓ کو ملنی چاہیے تھی۔

بہرحال، اس اختلاف کے باوجود اسلام اتنی تیزی سے پھیل رہا تھا کہ جلد ہی اسلام میں نئے داخل ہونے والے مسلمانوں نے پرانے مسلمانوں سے زیادہ طاقت حاصل کر لی۔ یہ سب نئے مسلمان بہت سی وجوہات کی بنا پر مسلمان ہوئے۔ کچھ یقیناََ نیکی کی طرف مائل ہوئے ہوں گے مگر بہت سے لوگوں نے اسلام کو طاقت اور شان و شوکت کے حصول کے لیے بھی اختیار کیا۔

آپؐ کے پردہ فرما جانے کے چالیس سال بعد ایک مسلمان حکمران ایسے بھی گزرے جنہوں نے بے پناہ طاقت حاصل کر لی۔

اپنے نبیؐ اور خلفاءِ راشدینؓ کی طرح سادگی سے حکومت کرنے کی بجائے اس نئے خلیفہ نے محلات میں رہنا پسند کیا اور خود کو عوام سے دور کرتا چلا گیا۔ سونے پہ سہاگہ یہ کہ وفات سے پہلے اس حکمران نے اپنے بیٹے یزید کو اپنا جانشین بھی مقرّر کر دیا۔

حسینؑ نے جب اپنے ناناؐ کے لائے ہوئے دین کے ساتھ یہ سلوک ہوتا دیکھا تو جنوبی عراق کی طرف رختِ سفر باندھا جہاں انہوں نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ یزید کی فوجوں کا سامنا کرنے کا فیصلہ کیا۔

 حسیںؑ اب داؤدؑ کی جگہ تھے۔ یزید کی فوجیں جالوت بن گئیں۔ لیکن اس بار کوئی غلیل نہیں تھی۔ کوئی سمندر شق نہیں ہوا۔ جس تاریخ کو رسولُ اللہﷺ نے اپنی امّت کے لیے فرعون کے ظلم سے یومِ نجات قرار دیا تھا، اسی دن وقت کے فرعون نے آپؐ کے نواسے کو شہید کر دیا۔ اور بدلے میں اپنے خاندان کے تخت کو آنے والی کئی دہائیوں کے لیے بچا لیا۔

ایک ایسے وقت میں، کہ جب تہذیبوں کے ٹکراؤ، اسلام  ومغرب کی جنگ اور شمال و جنوب کی اقتصادی رسّہ کشی کے سوا کوئی بیانیہ نہ ملتا ہو، عاشورہ کے اس سیاہ بابب کا تذکرہ پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔

میں ایسے کئی مسلمانوں کو جانتا ہوں جو چاہتے ہیں کہ مغرب اپنے گناہ مانے۔ ان کی خواہش ہے کہ مغربی سکول، ادارے اور سیاستدان اپنی تاریخ کے سیاہ ابواب – توسیعی عزائم، نوآبادیاتی نظام اور سامراجی ادوار – اور ان کے حصول کے لیے ڈھائے جانے والے مظالم کو تسلیم کریں۔

لیکن کیا ہم بھی ایسی ہی خوداحتسابی اور برداشت اپنی مساجد اور مدارس میں سکھا سکتے ہیں؟ خود کو مظلوم ثابت کرنا آسان ہے۔ مشکل تو اپنی غلطیوں کا اعتراف ہوتا ہے۔ دوسروں کے خود کے ساتھ روا رکھّے جانے والے سلوک کا ڈھنڈورا پیٹنا آسان ہے، کٹھن تو دوسروں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا اقرار ہے۔

جب میں چھوٹا تھا تو مجھے اسلام کو ایک جنگوں اور فتوحات کی تاریخ اور قوانین و عبادات کے ایک مرکّب کے طور پر پڑھایا جاتا تھا۔ اخلاقیات پر غور و فکر کی دعوت بہت کم دی جاتی تھی، ثقافتی اقدار کی بات نہ ہونے کے برابر تھی اور روحانیت کی طرف توجّہ تو سرے سے تھی ہی نہیں۔

اس کی ایک وجہ تو شائد یہ تھی کہ کچھ مسلمانوں نے اسلام کو ایک قومیت کے طور پر لیا اور قرآن کو اپنی قوم کی ایک دیومالائی داستان سمجھ لیا۔ کچھ مذہبی تنظیموں نے اسلام کو ایک سیاسی پروگرام سمجھ کر اس کو طاقت حاصل کرنے کا ذریعہ بنا لیا۔

لیکن شائد اس لیے بھی کہ اپنی چیز کا روشن پہلو دیکھنا قدرے آسان ہوتا ہے۔ پہلے خلیفہ حضرت ابوبکرؓ کو طبعی موت ملی۔ دوسرے خلیفہ حضرت عمرؓ کو قتل کر دیا گیا۔ تیسرے خلیفہ بھی قتل ہوئے مگر فرق بس اتنا تھا کہ اپنی ہی فوج کے ہاتھوں۔ چوتھے خلیفہ علیؓ، حسینؑ کے والد، انتہا پسند مسلمانوں کے ایک گروہ، خوارج، جو کہ داعش کے روحانی پیشوا بھی کہلائے جا سکتے ہیں، کے ہاتھوں قتل ہوئے۔ اور پھر حسین۔

اس تاریخ پر کون نظر دوڑانا چاہے گا؟

تہذیبوں کے ٹکراؤ کو کچھ دیر کے لیے بھول جائیے۔ اصل جنگ تو ان دو تہذیبوں کے درمیان ہے جن میں سے ایک کے متعلق ہم کہتے ہیں کہ ہم اس کے ساتھ ہیں اور دوسری وہ جس کے ہم دراصل معاون ہیں۔

آج، شامی ہزاروں کی تعداد میں قتل ہو رہے ہیں، ایک ایسی تنظیم کے ہاتھوں جس کو 'اسلامی جمہوری ایران' کی مکمّل تائید حاصل ہے۔ ایک ایسا انقلاب جو شاہِ ایران کو ظالم قرار دے کر اس کی معزولی کے نتیجے میں اقتدار میں آیا تھا، آج ایک ایسی حکومت کی سرپرستی کر رہا ہے جو شاہِ ایران کے مقابلے میں کہیں زیادہ خون بہا چکی ہے۔ ایران، اپنے اتّحادیوں بشارالاسد اور حزب اللہ کے ساتھ مل کر داعش سے کہیں زیادہ قتل و غارتگری کر چکا ہے۔ داعش ہی کی طرح انہوں نے بھی یہ سب میرے مذہب کے نام پر کیا۔ یہ یزید بمقابلہ یزید ہے، جب کہ دونوں حسین ہونے کے دعویدار ہیں۔

ہمارے دور کی اصل صف آرائی بین المذاہب یا بین الاقوامی نہیں بلکہ ان مذاہب اور ان اقوام کے اندر ہے۔ لیکن اس سے پہلے کہ اس بنیاد پر آپ مسلمانوں کو برا بھلا کہیں، یہ یاد رکھیں کہ یہ سب کچھ ہر جگہ، ہر قوم میں ہو رہا ہے۔ ہمارے سمیت۔

حسین، ایڈورڈ سنوڈین میں بھی ہے، جو ہمارے متعلّق کیے جانے والے فیصلوں اور ان کے پیچھے چھپے حقائق کو دنیا کے سامنے لایا۔ حسین 'اکوپائی وال سٹریٹ' تحریک میں بھی ہے جو امراء سے اپنا حساب مانگ رہی ہے۔ سیاہ فاموں کے لیے چلنے والی تحریکیں بھی حسین ہیں جو ہمیں نسلی تعصّب سے اوپر اٹھنے کی ترغیب دے رہی ہیں۔ فلیسطینی بھی حسین ہیں جو اپنے حقوق سے پیچھے ہٹنے کو کسی صورت تیّار نہیں۔

اور یہ سب حسین؟ یہ شائد ہار جائیں گے۔ یہ اپنی زندگیوں میں اپنی جدّوجہد کا ثمر نہیں دیکھ پائیں گے۔ کم از کم اس جہان میں تو نہیں۔ کچھ فراعین سمندر میں غرق ہوتے ہیں پر کچھ خاموشی سے اپنے آرام دہ گھروں میں بہت ہی سکون کے ساتھ مر جاتے ہیں۔

لیکن بہت سے دوسرے پیغمبروں اور دعوت دینے والوں کی طرح، محمّدؐ نے بھی اپنی امّت کو یہی سکھایا کہ جو دعائیں اس دنیا میں قبول نہیں ہوتیں، وہ دوسرے جہان میں قبول ہو جاتی ہیں۔ خدا کے یہاں دیر ہے، اندھیر نہیں۔


مندرجہ بالا تحریر ہارون مغل نے لکھی  جس کا ترجمہ فسادی کے لئے علی زیدی نے کیا ۔
بشکریہ : سی این این

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *