ایک مرتبہ پھر مسیحی محلے پر ایمان والوں کی یلغار

ali.zaidi@dunyatv.tv'Posted by

فیصل آباد کی مسیحی کالونی میں مومنین کے ایک لشکر نے یلغار میں پانچ ‘عیسائی کافروں’ کو زخمی کر دیا۔ ان پانچ میں سے ایک ضعیف العمر شخص بھی تھا جو کہ یقینا غیر ضروری قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ اسے تو ویسے ہی جہنم واصل ہو جانا چاہیے تھا۔ مزید برآں، ایماں کی حرارت والوں نے مسیحی خواتین کو بھی زد و کوب کیا۔ مومن کی شان ہی یہ ہے کہ دریاؤں کے دل ان کے قدموں کی چاپ سے دہل جایا کرتے ہیں۔ تو وہی ہوا۔ اور بھاگ ‘عیسائی چوڑے’ جا چھپے اپنے گھروں کے اندر۔ اور ایسے چھپے کہ چوہوں کی طرح وہیں دبکے بیٹھے رہے جب تک کہ مومنین اپنے گھوڑوں کی لگامیں تھامے تھامے تھک نہیں گئے۔

ڈرے سہمے ‘چوڑے’ پھر اپنے ارد گرد کے محلوں سے دوسرے ‘چوڑوں’ کو اکٹھا کر کے لائے اور شہر کے داروغہ کے پاس پہنچے اور لگے اپنا وہی پرانا رونا رونے کہ مسلمانوں نے ہمیں مارا پیٹا، لوگوں کو زخمی کر دیا۔ یہ نہیں دیکھتے کہ انگریزوں نے جو مسلمانوں کے ساتھ ہندوستان میں کیا، وہ کسی طرح بھی اس سے کم تھا کیا؟ ہمدردیاں سمیٹنے کے لیے داروغہ جی کو کہنے لگے کہ اب مسلمان کسی مسیحی پر توہین مذہب کا الزام لگائیں گے اور پھر چڑھ دوڑیں گے۔ تو کم از کم یہ بات تو طے ہو گئی کہ پے در پے توہین کے الزامات سے کفار پر مومنین کی دھاک تو بیٹھ گئی ہے۔

مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ معاملہ توہین کا تھا ہی نہیں۔ یہ تو کفار کی گھڑی ہوئی ایک بیہودہ سکیم ہے کہ جب بھی مومنین کا ایمان تازہ ہو، یہ توہین اور گستاخی والے الزام خود پر لگوا کر اپنے بیرونی آقاؤں کی ہمدردیاں سمیٹتے ہیں۔ یہاں تو بات ہی غیرت کی ہے۔ توہین کا معاملہ کہاں سے آگیا بیچ میں؟ ہوا دراصل کچھ یوں کہ قرون اولیٰ کی یاد تازہ کرنے کے لیے ایک شریف النفس مومن بھائی اپنے ذمی مسیحی کو کہیں بائیک پر بٹھائے لے جا رہا تھا۔ مگر آپ تو جانتے ہیں کہ کچھوا چاہے بچھو کو دریا پار کروا رہا ہو، مگر بچھو کی فطرت ہی ڈنک مارنا ہے۔ تو وہی ہوا۔ پیچھے سے اس خبیث ذمی نے مومن بھائی کے ساتھ ایک انتہائی نازیبا حرکت کی۔ مومن بھائی ٹھہرے غیرتمند۔ انہوں نے وہیں اس ذمی کو سبق سکھانے کا فیصلہ کر لیا۔ لڑائی ابھی شروع ہی ہوئی تھی کہ چند لوگوں نے آ کر بیچ بچاؤ کروا دیا۔ لڑائی ختم ہو گئی۔

لیکن یہ بات کسی کو نہیں معلوم کہ مومن ٹھنڈا نظر آتا بھی ہو تو اندر سے تتّا ہی ہوتا ہے۔ یہ ذمی اسلامی ریاست کی دی گئی بھرپور آزادیوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سنوکر کھیل رہا تھا کہ مومن بھائی کی غیرت پھر سے جاگ گئی اور بحر ظلمات میں گھوڑے دوڑاتے جا کھڑے  ہوئے سنوکر کلب کے باہر۔ ذمی کو زد و کوب کرنا چاہتے تھے مگر ایک بار پھر بین المذاہب برداشت کے راگ الاپنے والے دیسی لبڑل اور ان جیسے کچھ لوگ بیچ میں آ گئے اور یہ بچھو صفت ذمی ایک بار پھر بچ گیا۔

مگر مومن کے دل میں بھڑک اٹھنے والا الاؤ تھا کہ غیرت کے نام پر قتل سے نیچے ٹلنے کو تیار ہی نہ ہوتا تھا۔ بالآخر وہی ہوا جس کا خطرہ تھا۔ آمنے سامنے کی مار پیٹ سے بچانے والے دیسی لبڑلوں کی دوربینی پر سوال اٹھانے والے ایک بار پھر سچے ثابت ہوئے اور اس بار بات محض اس ذمی کی حد تک نہیں رہی بلکہ ذمیوں کے پورے علاقے پر حملہ کیا گیا۔ ایک کیتھولک چرچ کے ساتھ ساتھ بسی ان چند گلیوں کے مکین یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ اکٹھے رہنے میں ان کی بہتری ہے۔ لیکن یہ نہیں جانتے کہ جب مومن اپنی آئی پر آ جائے تو اس کے گھوڑے  کے سموں کے آگے دشمن کی صفوں کی کوئی اہمیت و حیثیت نہیں ہوا کرتی۔ زد میں آنے والے چاروں نوجوان، کہ جن کے ابھی بھی دائرہ اسلام میں داخل ہونے کے امکانات موجود ہیں اور عین ممکن ہے کہ انہی میں سے کوئی کل کو اسلام کی تلواروں میں سے ایک ہو، داروغہ کے سامنے پیش کر دیے گئے ہیں۔ اور وہ غیر ضروری بزرگ بھی جن کو مار نہ بھی پڑتی تو بھی پاؤں پہلے ہی جہنم کی آگ میں لٹکائے بیٹھے ہیں۔

گو کہ یہ واقعہ 19 کو پیش آیا تھا، 24 اگست تک تو مومنین نے اس کی ایف آئی آر بھی نہ کٹنے دی۔ بالآخر جب داروغہ نے اسلام کی طرف سے اقلیتوں کو دیے گئے حقوق کے عین مطابق ان ذمیوں کی بات سنی تو انہوں نے ایک مرتبہ پھر اپنی ڈنک مارنے والی فطرت کے تحت الزام لگایا کہ مسلمان ان میں سے کسی پر توہین کا الزام لگا کر انہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

اب یہ جو دیسی لبڑل بنے پھرتے ہیں، ان سے کوئی پوچھے کہ اگر اس خبیث ذمی کو غیرت کے نام پر قتل کرنے دیا جاتا تو کیا توہین کا الزام لگانے کی نوبت آتی؟ لیکن یہ اب بھی خاموش رہیں گے۔ کیونکہ دراصل یہ بھی اسی ایجنڈے پر ہیں جس پر وہ ذمی تھا۔ اور یہ ایجنڈا کوئی اور نہیں بلکہ کفار کی طرف سے دیا گیا وہی سوچا سمجھا منصوبہ ہے جس کے تحت مسلمانوں میں ہم جنس پرستی کو فروغ دے کر ان کی تعداد کم کر کے ہمیں وہاں لا کر مارنا ہے جہاں ہم پانی بھی نہ مانگ سکیں۔ مگر یہ یاد رکھیں کہ جب تک ہم میں جذبہ ایمانی زندہ ہے، ہر دور کے فرعون کو موسیٰ ہوتے رہیں گے۔

بقول شاعر،

آخری شب ہے، سر نہ جھکانا لوگو


یہ بلاگ پاکستان کرسچن پوسٹ پر چھپنے والی ایک خبر سے متعلق لکھا گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *