نصابی کتب کی متعصّب تاریخ کو درست کرنے کی ضرورت

ali.zaidi@dunyatv.tv'Posted by

پاکستان کو قائم ہوئے ابھی صرف اڑسٹھ سال ہوئے ہیں اور یہ قوموں کی تاریخ میں کوئی بہت طویل عرصہ نہیں۔ لیکن کم از کم ایک سمت کا تعیّن ہو جانا بہر  حال از حد ضروری ہے۔ ہمارے نصاب کی کتابوں میں روزِ اوّل سے ہی ہمیں ایک مخصوص نظریہ پڑھایا گیا ہے اور کبھی علمی تحقیق کی طرف رجحان بنانے کی کوشش ہی نہیں کی گئی۔ ہمارا تعلیمی نظام آج بھی رٹّے پر قائم ہے اور نتیجہ یہ ہے کہ ہمیں اصل تاریخ سے معمولی سا ادراک ہونے پر بھی  دماغ سائیں سائیں کرنے لگتا ہے۔ ردِّ عمل کے طور پر یا تو ہم اس سب سے ہی باغی ہو جاتے ہیں جو اس وقت تک پڑھا ہوتا ہے یا پھر شتر مرغ کی طرح گردن زمین کے نیچے دھنسا کر اس نئے ملنے والے علم کو ہی مکمّل طور پر رد کر دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر آپ کسی سے یہ کہہ کر دیکھ لیں کہ 1965 کی جنگ پاکستان جیتا نہیں تھا بلکہ صرف اس حد تک کامیاب ہوا تھا کہ بھارت کو اس کے مقاصد میں کامیاب نہیں ہونے دیا تو سامنے سے آپ کو ایسے ایسے طعنے سننے کو ملیں گے کہ الامان۔ وجہ یہ ہے کہ مطالعہ پاکستان کی کتب میں یہی لکھا گیا ہے کہ پاکستان نے بھارت کو ‘شکستِ فاش’ سے دو چار کیا۔ رہی سہی کسر ممتاز مفتی کی الکھ نگری اور قدرت اللہ شہاب کے شہاب نامے نے نکال دی۔ الکھ نگری نے اس بات کا یقین دلا دیا کہ جنگ کی تیّاری کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی، بس ہرے چغّوں میں بزرگانِ دین آ کر بھارتی گولے واپس بھارتیوں کو ہی دے ماریں گےاور شہاب نامے کے مطابق تو خیر 65 کی جنگ پاکستان نے اس بری طرح جیتی کہ پرتگال کے سفیر نے آکر کہا “اور مارو۔۔ مار مار کر سمندر میں پھینک دو ان ہندوستانیوں کو۔”

ریاست کی طرف سے زبردستی ایک سوچ اور نظریہ بنانے کی کوشش تو سمجھ میں آتی ہے کہ ایک نوزائیدہ ملک کو ایک بیانیے کی ضرورت ہوتی ہے مگر ہمارے تو تاریخ دان اور ادیب بھی کیونکہ بیوروکریٹ ہی واقع ہوئے تھے لہذا وہی کچھ لکھتے رہے جو ریاست کے بیانیے سے متصادم نہیں تھا۔

The Shameful Flight by Stanley Wolpert

ریاست کے بیانیے میں مسئلہ یہ ہے کہ اس کی بنیاد ہی دو قومی نظریہ ہے۔ اس دو قومی نظریے کو سچـّا کرنے کی کوشش میں ہم نے جن دو افراد کا سب سے زیادہ نقصان کیا ہے وہ کانگریس کے دو بہت بڑے رہنما گاندھی جی اور مولانا ابو الکلام آزاد ہیں۔ گاندھی جی کے حوالے سے تو خیر کتا بوں کی کتابیں بھری پڑی ہیں لیکن سب سے اہم ریفرنس سٹینلی وولپرٹ کی کتاب ‘دا شیم فُل فلائٹ’ کا ہے۔ سٹینلی وولپرٹ کا ریفرنس اس لیے اہم ہے کہ ریاستِ پاکستان کے مطابق سٹینلی وولپرٹ قائدِاعظم محمّد عل جناح کے سرکاری سوانح ہیں۔ اس کتاب میں سٹینلی وولپرٹ نے جہاں جناح کے تقریباً تمام مطالبات کو جائز بھی قرار دیا ہے اور ساتھ ہی ساتھ ان کے کانگریسی رہنماؤں کے حوالے سے شاکی ہونے کو بھی منطقی گردانا ہے، وہیں یہ بھی کہا ہے کہ گاندھی ایک واحد ہندستانی سیاستدان تھا جو جان گیا تھا کہ انگریز جس طرح ہندوستان کو چھوڑ کر جا رہا ہے اس سے صرف نقصان ہی نقصان ہے اور جس عجلت میں یہ کام کیا جا رہا ہے یہ قتل و غارت گری کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ وولپرٹ کی جناح سے عقیدت کا اندازہ آپ یوں لگا سکتے ہیں کہ اس نے ایک موقع پر کتاب میں یہاں تک لکھا کہ ‘یہ ایک ایسی صورتحال تھی کہ جناح تک نہیں اندازہ لگا سکے کہ انگریز کتنی عجلت میں ہیں’۔ وولپرٹ کا جناح کے ایک زیرک سیاستدان ہونے کے قائل ہونے پر تو کوئی سوال ہی نہیں اٹھتا۔  لیکن ان کا یہ کہنا کہ گاندھی جی یہ جان گئے تھے کہ اتنی عجلت میں ہونے والی تقسیم کس قدر خطرناک ہوگی، اور تاریخ نے ثابت کیا کہ گاندھی کم از کم اس حوالے سے غلط نہیں تھے، قابلِ ذکر ہے۔

India Wins Freedom

اسی کتاب میں وولپرٹ نے آزاد کے حوالے سے بھی کچھ گفتگو کی ہے۔ گو کہ آزاد کو وولپرٹ نے زیادہ اہمیت نہیں دی، یہ بات طے شدہ ہے کہ وولپرٹ آزاد کے وژن کا قائل ضرور تھا۔ مثال کے طور پر اس کا یہ کہنا کہ جب آزاد سے ماؤنٹ بیٹن نے گاندھی جی کی یہ تجویز شیئر کی کہ جناح کو متحدّہ ہندوستان کا وزیرِاعظم بنا دیا جائے تو گو کہ ماؤنٹ بیٹن کا مقصد آزاد کو گاندھی سے توڑنا تھا، آزاد کا جواب اس کو حیران کر گیا کیونکہ آزاد نے بھی اس تجویز کی حمایت کر دی۔ یہ بات یہاں قابلِ ذکر ہے کہ آزاد بھی جناح کو اتنا ہی ناپسند کرتے تھے جتنا جناح آزاد کو۔ قائدِاعظم نے بار بار آزاد کو ایسے القابات سے نوازا جو کہ کسی بھی غیرت مند شخص کے لئے برداشت کرنا ممکن نہ ہوگا، بلکہ شملہ معاہدے کے دوران تو ہاتھ تک ملانے سے انکار کر دیا۔ اور آزاد نے بھی اپنی کتاب ‘انڈیا وِنز فریڈم’ میں جناح کے لئے اپنی نا پسندیدگی کہیں چھپائی نہیں۔ لیکن اس موقع پر اس کا جناح کو اتنے بڑے عہدے کی پیشکش کرنا اس بات کا صاف ثبوت تھا کہ وہ ایک سٹیٹس مین تھا۔ اور سٹینلی وولپرٹ بھی اس بات پر آزاد کی تعریف کیے بنا نہ رہ سکا۔

اور آزاد کے ساتھ تو ویسے بھی ہماری کتابوں کا رویّہ اس حد تک متعصّبانہ رہا ہے کہ شائد ہی آج بھی ہماری کسی مطالعہ کی کتاب میں یہ بات لکھی ہو کہ آزاد کئی سال کانگریس کے سربراہ رہے۔ شائد ریاستی بیانیے میں یہ حقیقت اس لیے فِٹ نہیں بیٹھتی کہ کانگریس کو ایک متعصـب ہندو جماعت ثابت کرنا ضروری تھا کیونکہ اسی طریقے سے مسلم لیگ کے مسلم تعصّب کو جسٹیفائی کیا جا سکتا تھا۔ کانگریس چاہے جیسی بھی ہو، حقیقت یہ ہے کہ اپنے نظریے میں وہ ایک سیکیولر جماعت تھی اور چاہے رسمی طور پر ہی سہی، مسلمانوں کو ہمیشہ نمائندگی ضرور دیتی رہی۔

ہمیں آج پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے اپنی تاریخ کو درست کرنے کی۔ آج بھی پاکستانی فلموں میں ہندوؤں کو انتہائی مضحکہ خیز کردار دکھایا جاتا ہے، ہمارے ملک میں ہندو لڑکیوں کو اغوا کر کے، ان کی عزـت لوٹ کر، انہیں مسلمان بنا کر ان سے زبردستی شادی کرنے کو کارِثواب سمجھا جاتا ہے تو اس کی وجہ صرف ہماری نصابی کتب میں پایا جانے والا شدید تعصّب ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *