ناکام سیاستدان، اور فوج کی اخلاقی برتری

ali.zaidi@dunyatv.tv'Posted by

گذشتہ ہفتے جی ایچ کیو میں ایک ہائی لیول میٹنگ ہوئی جس میں ملک کی اعلیٰ سیاسی اور عسکری قیادت نے شرکت کی۔ سامنے آنے والی تصویروں میں خواجہ آصف، اسحاق ڈار اور دوسرے وزراء خاصے مؤدب انداز میں سپہ سالارِ اعظم جنرل راحیل شریف کے سامنے بیٹھے ملک کی خارجہ پالیسی پر لیکچر سنتے نظر آئے۔ ان تصویروں کو لے کر صحافتی حلقوں میں نئی بحث چھڑ گئی۔ زیادہ تر صحافیوں کا کہنا تھا کہ خراب پرفارمنس کی وجہ سے حکومت اس حد تک کمزور ہو چکی ہے کہ اب فوج تمام وزراء کو اپنے دفتر بلا کر ان کو ڈکٹیشن دیتی ہے۔ کچھ کا کہنا یہ بھی ہے کہ کل وقتی وزیر خارجہ کے نہ ہونے کی وجہ سے حکومت اس صورتحال سے دو چار ہے۔

سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ وزیر خارجہ کا ہونا یا نہ ہونا اس لیے معنی نہیں رکھتا کہ سرتاج عزیز صاحب کو نہ صرف وزیر خارجہ کے تمام اختیارات حاصل ہیں بلکہ وہ وزیراعظم کے منظورِ نظر بھی ہیں اور اس حوالے سے ان کو کسی قسم کی مشکل کا سامنا کم از کم عہدے کے نہ ہونے کی وجہ سے نہیں ہے۔

جہاں تک بات حکومت کی پرفارمنس کی ہے تو باوجود بے شمار خامیوں اور کوتاہیوں کے، یہ بات ایک حقیقت ہے کہ اس حکومت کے خلاف عوام میں ایسی کوئی تحریک اس وقت تک موجود نہیں جو حکومت کے لیے کسی بھی قسم کی پریشانی کا باعث بن سکے۔ معیشت کی صورتحال کم از کم گذشتہ دو حکومتوں کے مقابلے میں کہیں بہتر ہے، لوڈ شیڈنگ کی صورتحال قابو میں ہے اور مہنگائی نے بھی عوام کی ناک میں دم نہیں کر رکھا، دہشتگردی کی صورتحال گذشتہ ادوار کے مقابلے میں اچھی ہے، یہاں تک کہ کرپشن میں بھی پاکستان تاریخ کی بہترین رینکنگ پر ہے۔ یہی چند معاملات ہیں جو عوام سے متعلق ہیں۔ باقی کسی چیز کا تو عوام الناس کو علم بھی نہیں ہوتا۔ تو پھر آخر یہ کون سی پرفارمنس ہے جس کی کمزوری کی وجہ سے فوج مضبوط اور سویلین حکمران کمزور ہوتے جا رہے ہیں؟

حقیقت یہ ہے کہ حکومت کی کمزوری یا فوج کی مضبوطی میں پرفارمنس کا تعلق نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کا تعلق بنیادی طور پر صرف اس چیز سے ہے کہ فوج کس حد تک حکومتی معاملات میں دخل دینا چاہتی ہے۔ اگر فوج بالکل دخل نہ دینا چاہے تو سویلین حکومت مضبوط جبکہ فوج اگر ریاستی معاملات چلانے کا فیصلہ کر لے تو حکومت پھر جو چاہے کر لے، فوج جو چاہتی ہے کر لیتی ہے۔

اور اس حوالے سے یہ کہنا کہ فوج کا اثر و رسوخ کم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، انتہائی زیادتی کی بات ہے۔ یہ تجویز دینے والوں سے میری گذارش یہ ہے کہ وہ براہِ کرم صرف منزل نہ دکھائیں، راستہ بھی بتا دیں۔ حکومت کے پاس ایسی کون سی طاقت ہے جس کے ذریعے وہ فوج کا رسوخ کم کر سکتی ہے؟ اگر آپ کے خیال میں حکومت صرف اخلاقی قوت سے ایسا کر سکتی ہے تو یہ آپ کی خام خیالی ہے۔ پاکستان جیسے غریب ملکوں میں بہتری آتے آتے ہی آتی ہے۔ ایسا ممکن نہیں کہ ایک حکومت آج حلف اٹھائے اور اگلے دن سب کچھ ٹھیک ہو جائے۔ ایسی صورت میں یہ تو ممکن ہی نہیں کہ صرف پرفارمنس کی بنیاد پر حکمران اخلاقی برتری حاصل کر سکیں۔ مثال کے طور پر آپ موجودہ حکومت ہی کو لے لیں۔ کیا لوڈ شیڈنگ کی صورتحال پہلے کے مقابلے میں بہتر نہیں؟ مگر آپ کو میڈیا میں یہ کہتا کوئی سنائی نہیں دے گا۔ میڈیا کی نام نہاد آزادی کے بعد سے تو یہ اور بھی مشکل ہے۔

چوبیس گھنٹے 'شکریہ، شکریہ' کی گردان کرتے میڈیا کے سامنے آپ اخلاقی برتری کیسے برقرار رکھ سکتے ہیں؟ جس ملک میں میڈیا کا ایک بڑا حصہ پٹرول سستا ہونے پر 'شکریہ راحیل شریف' کہتا ہو اور بھارتی ڈرون ملکی فضاؤں میں گھس آئے تو 'گو نواز گو' کی صدائیں بلند ہونے لگیں، وہاں کسی بھی حکمران کے لیے 'اخلاقی' برتری برقرار رکھنے کا کوئی طریقہ نہیں۔ ایک چینل تو اس حد تک چلا گیا کہ ملا منصور کی ہلاکت کے موقع پر 'ذرائع' سے یہ تک معلوم کر آیا کہ فوجی قیادت سول قیادت سے اس حوالے سے شدید نالاں ہے۔ غضب خدا کا! موصوف نے یہ تک نہیں سوچا کہ اگر کسی پڑھے لکھے آدمی نے دیکھ لیا تو کیا کہے گا۔

2014 میں حامد میر پر قاتلانہ حملے کے معاملے میں حکومت نے جیو کا ساتھ دینے کی کوشش کی تھی۔ اور سب کے سامنے ہے کہ اس کا نتیجہ کیا نکلا۔ جیو کو تو جو نقصان برداشت کرنا پڑا وہ اپنی جگہ، ایک موقع پر تو پورا نظام ہی چلتا کیا جانے والا تھا۔ "بھائی صاحب، پی ٹی وی میں کارکنان گھس چکے ہیں"، "اچھا ہے، اچھا ہے"۔

میرے نزدیک تو اس کے دو ہی طریقے ہیں۔ پہلا طریقہ ذرا خطرناک ہے۔ اس طریقے میں ہوتا یہ ہے کہ وزیراعظم ایک ذاتی فوج بنا لیتا ہے۔ یہ ایک پیراملٹری فورس کی طرح کام کرتی ہے اور وزیراعظم کی ذاتی سکیورٹی بھی اسی فوج کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اس میں مسئلہ یہ ہے کہ کوئی مسعود محمود بھی نکل سکتا ہے۔ اور اگر کسی طریقے سے اس فوج کو ملکی فوج شکست دے دے تو پھر اس فوج کی غلطیاں بھی آپ کے سر تھوپی جا سکتی ہیں۔

دوسرا طریقہ جان ڈیوئی کے الفاظ میں 'مزید جمہوریت' ہے۔ ہر ادارے میں یونین سازی ہو اور یونین کا مقصد صرف عوام کے مسائل کو ہائی جیک کرنا نہ ہو بلکہ یہ حقیقی طور پر نمائندہ یونین ہوں، ان کے باقاعدہ انتخابات ہوں، اور انتخابات کروانے والی باڈی کوئی قابلِ احترام ادارہ ہو۔ تاجر تنظیمیں، طلبہ تنظیمیں، ملازموں کی تنظیمیں، اساتذہ کی تنطیمیں اور دیگر ہر سطح پر نمائندہ تنظیمیں موجود ہوں۔ یہاں تک کہ جان ریڈ کے الفاظ میں، ہر وہ جگہ جہاں ایک سے زیادہ افراد کام کرتے ہوں، یونین بنائیں۔

مسئلہ اگر یہی ہے کہ موجودہ قائدین عوامی سطح سے اٹھ کر نہیں آئے تو اس کا حل تو موجود ہے۔ مگر اس کو بھی ایک مسئلہ بنا دیا گیا ہے۔ وہ لوگ جو قیادت کے فقدان کا ذمہ دار سیاستدانوں کو ٹھہراتے ہیں، وہ یاد رکھیں کہ یہ ذوالفقار علی بھٹو ہی تھا جس نے 1974 میں طلبہ تنظیموں کے انتخابات کو قومی سطح پر کروانا شروع کیا۔ اس سے پہلے یہ انتخابات صرف یونیورسٹی کی سطح پر ہوا کرتے تھے۔ یعنی ایک سویلین حکمران نے مردم سازی کے نظام کو قومی سطح پر قبولیت بخشی۔ لیکن 1983 کے انتخابات کے بعد سے ابھی تک یہ انتخابات دوبارہ نہیں ہو سکے۔ طلبہ تنظیموں پر پابندی غازئ اسلام جنرل محمد ضیاءالحق شہید رحمت اللہ علیہ نے ہی لگائی تھی۔ آپ کو خدشہ تھا کہ کہیں طلبہ تنظیمیں ایوب خان کے دور کی طرح اتنی مضبوط نہ ہو جائیں کہ ان کی حکومت ہی چلی جائے اور اسلام جو اتنی شدومد کے ساتھ نہ صرف ملک میں پھیلایا جا رہا تھا بلکہ بیرون ملک برآمد بھی کیا جا رہا تھا، اس کی ترویج میں رخنہ آجائے۔ آپ نے نہ صرف ملک میں طلبہ تنظیموں پر پابندی لگا کر یونین کے انتخابات پر کاری ضرب لگائی بلکہ غیر منتخب جمعیت کو کھل کھیلنے کا موقع بھی فراہم کیا۔ آپ ہی کی کاوشوں کا نتیجہ ہے کہ آج بھی پنجاب یونیورسٹی میں پرندے کو پرندی کے ساتھ بیٹھنے کی اجازت نہیں، پر مارنا تو دور کی بات۔

دراصل طلبہ تنظیموں سے خطرہ یہ ہے کہ ایک تو یہ کسی کی سننے والی قوم ہوتی نہیں، دوسرا مسئلہ ہی ہے کہ اگر ایک بار یہ کام شروع ہو گیا تو شاید قابو سے باہر ہوجائے۔ نواز شریف نے تو جیسے تیسے سعد رفیق، جاوید ہاشمی اور مشاہداللہ جیسوں کے ساتھ گزارا کر لیا، بینظیر بھی رضا ربانی اور اعتزاز احسن کو برداشت کرتی رہیں۔ لیکن اگر روسی اور چینی فوج کی طرح یہاں بھی یونین سازی کے شوق میں بات فوج کی از سر نو تنظیم سازی تک چلی گئی تو؟ لہٰذا اس کا حل یہی ہے کہ سانپ کا بچہ انڈے میں ہی مار دو۔ بڑا زہریلا، منہ زور سانپ ہے، ایک بار بڑا ہو گیا، تو کسی بڑی سے بڑی 'توپ' کی بھی نہیں سنے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *